سلمان بٹ کی شاندار کارکردگی جبکہ پی سی بی کا دوہرا معیار


image source-social media

سابق ٹیسٹ کپتان اور اوپنر بیٹسمین سلمان بٹ کی شاندار کارکردگی کے باوجود قومی ٹیم میں سلیکشن نہ ہونے کی وجوہات منظر عام پر آنے لگی ۔

قائد اعظم ٹرافی فائنل پریس کانفرنس کے درمیان سنٹرل پنجاب ٹیم کے کوچ اور سلیکشن کمیٹی کے رکن اعجاز جونئیر سے ایک صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ سلمان بٹ کی کارکردگی کے بعد کیا سلیکشن کے لیے انکا نام زیر غور ہے یا نہیں ؟ سنٹرل پنجاب ٹیم کے ہیڈ کوچ اور سلیکشن کمیٹی رکن اعجاز جونئیر کا جواب تھا کہ بنیادی طور پر یہ فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا ہے ، اس معاملے پر انکی ہیڈ کوچ مصباح الحق سے بھی بات ہوئی کیونکہ سلمان بٹ مسلسل کارکردگی دے رہے ہیں ، لیکن اس معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے انکو ہدایات نہیں ہیں جب بورڈ کی طرف سے انکو ہدایات آئیں گی تو ضرور غور کریں گے ۔ 
جبکہ اس معاملے کے بعد سے ابھی تک پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کسی بھی قسم کی وضاحت نہیں دی گئی ۔ 
جیو نیوز کے پروگرام جیو اسکور میں میزبان سید یحیی حسینی کی طرف سابق کرکٹر محمود حامد سے اعجاز جونئیر کے بیان کے متعلق سوال کیا گیا تو سابق کرکٹر محمود حامد کا کہنا تھا کہ سلمان بٹ ڈومیسٹک کرکٹ تو کھیل سکتے ہیں لیکن اعجاز جونئیر کے بیان سے یہی تاثر ملتا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے انکے لیے ابھی تک بند ہیں جبکہ بورڈ کی طرف سے اس پر کوئی وضاحت نہیں دی گئی ۔
واضح رہے کہ قائد اعظم ٹرافی سیزن 2019,2020 میں سابق ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ 15 اننگز میں تین سنچریاں اور ایک ڈبل سنچری کی مدد سے 901 سکور بنا کر اس سیزن کے تیسرے بہترین بیٹسمین رہے ۔ 


اس سے قبل 2010 اسپاٹ فکسنگ کیس میں تین پاکستانی کرکٹرز کو پانچ سالہ پابندی کا سامنا کرنا پڑا جس میں اسوقت کے ٹیسٹ کپتان سلمان بٹ ، نوجوان فاسٹ باولر محمد عامر اور فاسٹ باولر محمد آصف شامل تھے ، پانچ سالہ پابندی ختم ہونے کے بعد نوجوان فاسٹ باولر محمد عامر پاکستان کی جانب سے تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جبکہ اوپنر بیٹسمین سلمان بٹ ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی کے باوجود مسلسل سلیکشن کمیٹی کی طرف سے نظر انداز کیے جا رہے ہیں ۔